نیا پاکستان بمقابلہ پرانا پاکستان(Day7)
اسلام و علیکم دوستو! امید ہے کہ پرانے پاکستان میں سب لوگ خوشی سے جی رہے ہوں گے۔ہمارے پیارے ملک میں اس وقت اک حشر کا سماں برپا ہے۔ایک طرف چور باپ کرائم منسٹر بنا بیٹھا ہے تو دوسری طرف بیٹا اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئےخون بہا کر پنجاب کی کرسی پر قبضہ جمانے کے قریب ہے۔اک طرف باپ اپنے آقا کو حق نمک ادا کررہا ہے تو دوسری طرف بیٹے کو جھکاؤ بھی امی ریکہ کی طرف ہی ہے
آج کرائم منسٹر اس ڈیم پر کام دیکھنے پہنچا ہوا تھا جس کے بارے میں آج سے 1 مہینہ پہلے تک اس کا کہنا تھا کہ کہاں ہے ڈیم اور اس کے پیسے خان اور نثار کھا گئے ہیں۔تقدیر بھی کیا کیا رنگ دکھلاتی ہے۔بھکاریوں سے پہلے تھوکواتی ہے پھر چٹواتی ہے۔ بے شک اوپر اللہ کی ذات بیٹھی ہوئی ہے جو جب چاہے شر سے بھی خیر کا پہلو نکلوا سکتی ہے۔
کرائم منسٹر کا ککڑی کو پنجاب سونپنے کی بہت جلدی ہے۔ اسی لیے انہوں نے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ایک طرف بوٹ پالشیے حکومت میں آ کر عوام کی زندگی اجیرن کر رہے ہیں تو دوسری طرف آج اسمبلی کے فلور پر محسن داوڑ اور علی وزیر نے کھل کر فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔اب سوال یہ بنتا ہے کہ ان کے خلاف کیا ایکشن ہوگا۔ یا پھر ایکشن صرف غریب پاکستانی کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔
عجیب بات ہے ختم نبوت کے نام نہاد رکھوالے چور لیگ کے آنے کے بعد شاید شیطان کی طرح زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں یا پھر انڈوں پر بیٹھ گئے ہیں۔ذرا سی آواز نہیں نکل رہی۔لگتا ہے وہ بھی نیوٹرل ہوگئے ہیں۔یہ تو عالیہ اور عظمٰی سے بھی آگے نکل گئے جو کہ لٹیروں کو چار سال سے تاریخ پہ تاریخ دے رہےتھے۔اور جب ان سے حق نمک ادا کرنے کا وقت آیا تو رات بارہ بجے بھی خدمات دے دی۔ جبکہ دو بھائی جن کو ایک سال پہلے پھانسی دی جا چکی ہے آج ان کو باعزت بری کر دیا گیا ہے۔
ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ خان کا پنڈال لاہور میں 2ٍ1 اپریل 2022 کو سجے گا۔ اب دیکھتے ہیں لاہوریے کس کے ساتھ ہیں۔چوروں کیساتھ یا دلیروں کے ساتھ۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔ کرائم منسٹر مردہ باد
Comments
Post a Comment