نیا پاکستان بمقابلہ پرانا پاکستان(Day3)

 اسلام علیکم دوستو! کیسے مزاج ہیں سب کے۔ امید ہے کہ سارے احباب پرانے پاکستان میں بالکل خیروعافیت میں ہوں گے۔آج پرانے پاکستان کا تیسرا دن ہے۔آج روزے کے وقت واپڈا والوں کو لائٹ بند کرنا بھول گیا جس کی وجہ سے آج بہت سکون اور اطمینان سے نماز اور قرآن مجیدکی تلاوت کی۔

آج آفس میں حسبِ روایت بجلی اپنے وقت پر آتی اور جاتی رہی۔اوپر سے پرانے پاکستان کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ۔سابق حکومت کا پروگرام کوئی بھوکا نہ سوئے بند کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سننے میں آ رہا ہے کہ صحت انصاف کارڈ جو کہ کسی بھی حکومت کا عوام کا پیسہ عوام پر لگانے کا پہلا حقیقی منصوبہ تھا۔ہسپتال والے اس پر علاج نہیں کر رہے ہیں۔سننے میں آرہا ہے کہ چوروں کی جنت مالیائی امرا میں حکومتی خرچے پر 3200 پولیس افسران واہلکاروں کو لگانے کی سفارش کی ہے اس کے علاوہ وہاں پر جدید سکیورٹی آلات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔یہ سب مراعات کرائم منسٹر کے تمام گھروں کو کرائم منسٹر ہاؤس کا درجہ دیے جانے کے علاوہ ہے۔کل رات اپنے زرخرید صحافیوں کو عوام کے ٹیکس کے پسیے سے98لاک کا پرتکلف کھانا کھلاکر بھی پرانے پاکستان کی روایات کو دہرایا گیا ہے۔

حامد میر صاحب کا ٹویٹ کہ خدا کا شکر ہے آج تین سال بعد کرائم منسٹر ہاؤس میں پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے۔پرانے پاکستان کی نوازشات کی لوٹنے کی نوید سنا رہا ہے۔دوسری طرف میاں جاوید لطیفہ صاحب سے جب یہ پوچھا گیا کہ کہ اب سرٹیفائیڈ چور کی واپسی کا کوئی چانس ہے تو نہایت ہی ڈھٹائی سے بولے کہ لندن کے ڈاکٹرز کی متفقہ رائے ہے کہ اب پاکستان کے ڈاکٹرز بہتر علاج کررہے ہیں اس لیے مجھے کیوں نکالا کو واپس جانے کی اجازت ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو یوٹرن لیا گیا ہے اس پر مفتاح اسماعیل صاحب کا کہنا ہے کہ ابھی مارچ میں ہی تو عمران خان کی گورنمنٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی ہیں۔اس لیے ابھی اضافہ نہیں ہو سکتا۔کرائم منسٹر نون ٹرن کا مشہورِزمانہ ڈائیلاگ "بیگرز کانٹ بی چوزرز"  کا نیا ورژن ریلیز کر دیا گیا ہے کہ " جو کہتے ہیں کہ بیگرز کانٹ بی چوزرز وہ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ قومیں وہی کھڑی ہوتی ہیں جو چوزرز ہوتی ہیں بھکاری کو کون پوچھتا ہے"۔

نانی 420 نے آج کرائم منسٹر ہاؤس کا دورہ کیا ہے۔اس کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ چیزیں چیک کررہی تھی کہ کون کون سی یہاں سے اُٹھا کر گھر لے کر جانی ہیں۔نئے پاکستان کا وزیراعظم 3سال 7 مہینے وزیراعظم رہا مگر اسکا کوئی رشتہ دار کبھی وزیراعظم آفس نہیں آیا۔دوسری طرف لوہار کورٹ نے ککڑی شریف کی درخواست نمٹا دی ہے جس میں اس کا فائدہ تھا۔وہ والی نہیں جس میں اس کو سزا ہونی تھی۔

آج بھکاری ایسوسی ایشن کے بڑے بھائی امبریکہ اور کرائم منسٹر کے پرانے رشتے دار گاؤمُوتی  جو کہ بناء ویزہ کے ان کی بچی کی شادی میں شامل ہوئے تھے۔ان دونوں ممالک کے وزیرِخارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گرد ملک کہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کرائم منسٹر اس کی مذمت کرتے ہیں(جس کی ان سے امید نہیں) یا پھر حسبِ عادت ان کے سامنے لیٹ جاتے ہیں۔لیکن بھکاری اس میں بھی بہت خوش ہیں ۔حالانکہ مجھے کیوں نکالا شریف وہ بھینس ہے جو کھاتا پاکستان کو ہےاس کا دودھ اس کی اولاد پیتی ہے مگر گوپر بھکاریوں کے حصے میں آتا ہے۔اور وہ اس پر بھی خوش ہیں۔

سننے میں آ رہا ہے کہ لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں الیم کھان کو ککڑی شریف نے رکھ کے تھپڑ مارا ہے۔اندر کے ذرائع کے مطابق الیم کھان نے ککڑی کو بھی بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔کرائم منسٹر کے اچکن چھوڑ کر کوٹ پہننے کا معمہ بھی حل ہو گیا ہے۔انکی بھتیجی نانی 420 کے ایک خسرے پیر نے ان سے کہا ہے کہ جمیز بانڈ007 والا کوٹ اور چشمہ آپ کی کرائم منسٹری کے لئےلکی ہے۔اسی وجہ سے پچھلے تین دن سے کرائم منسٹر وہی پہن کر گھوم رہے ہیں۔

پرانے پاکستان کے ثمرات کرائم منسٹر کو ملنا شروع ہو گئے ہیں۔لوہار کورٹ نے آشی آنہ، رمزان چینی مل، اور حدیبی یا میں ان کی ضمانتیں بڑھا کر حق،نمک ادا کر دیا ہے۔دوسری طرف آج انڈیا ٹوڈے آج تک نے جب مجھے کیوں نکالا سے یہ سوال پوچھا کہ آپ کو بدھائی ہو اور آپ پاکستان کب لوٹ رہےہیں تو انہوں نے مڑ کر جواب دیا "آپ جب کہیں گے لوٹ جائیں گے"۔مولانا ڈیزل نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ہم بے نظیر کے مزار پر دھرنا دیں گے۔

عمران خان جو کہ آج پشاور میں جلسہ کرنے جا رہےہیں۔آرمی چیف کی طرف سے دے گئے افطار ڈنر میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔اب آخر میں ایک لطیفے کے ساتھ اس آرٹیکل کو ختم کرتا ہوں۔"ایک بچہ دکان پر آیا اور بولا کہ ایک پی۔ڈی۔ایم دینا۔دکاندار مسکراتے ہوئے اچار دے دیا"

پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرائم منسٹر مردہ باد۔

Comments