نیا پاکستان بمقابہ پرانا پاکستان

   آج پرانے پاکستان میں انٹری کا پہلا دن تھا۔ابھی دو دن پہلے کی بات ہے کہ اس ملک پر ایک نڈر اور جرات مند لیڈر کی حکومت تھی۔لیکن آج بھکاریوں کے لیڈر کا پہلا دن تھا ۔دن کا آغاز روزہ رکھنے سے ہوا۔قرآن مجید کی تلاوت کر ہی رہا تھا کہ بجلی چلی گئی ۔اس سے مجھے پرانے پاکستان میں موجودگی کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا۔موبائیل کی ٹارچ کی روشنی میں پارہ ختم کیااور نماز کی ادائیگی کی۔گرمی کی شدت کی وجہ سے نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اللّٰہ اللّٰہ کرتے ایک گھنٹے کے بعد لائٹ آئی ۔

نہا دھو کر کام پر گیا۔ابھی کرسی پر بیٹھنے کی جسارت کی ہی تھی کہ ایک بار پھر بجلی چلی گئی۔اور جب تک کام پر رہا ایک گھنٹے کے وقفے سے پرانے پاکستان میں بجلی کے آنے اور جانے کا لطف لیتا رہا ۔خدا خدا کر کے آفس کا وقت ختم ہوا۔واپسی پر سوچا کہ بچوں کے لیے پرانے پاکستان سے کچھ سستا خرید لوں۔اک فروٹ کی ریڑھی کے پاس کچھ لینے کے لیے رکا تو اک بھکاری نے آن گھیرا۔امریکہ کے نام پر سو روپے دے دے بابا۔میں نے پرس سے دس کا نوٹ نکالا اور اور اسے دینے کی کوشش کی۔اس بھکاری نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بولا کیا تمہیں نہیں پتہ آج بھکاریوں کا وزیراعظم پاکستان میں بن چکا ہے۔اس کیے سو سے کم میں ہرگز نہیں لوں گا۔اس بھکاری کے ترلے منت کر کے پچاس روپے میں بات ختم کی اور فروٹ والے سے پوچھاسب سے سستی چیز کیا ہے آپ کے پاس وہ بولا ایم۔این۔اے تھے وہ سارے اک تھوک کا گاہک خرید کر لے گیا۔

ابھی سب سے سستے لیموں ہیں ساڑھے چار سو روپے کلو۔میں نے گاڑی کو کک ماری اور وہاں سے کھسک لیا۔راستے میں سوچا پیٹرول ڈلوا لوں۔پیٹرول والے سے ازراہِ مذاق کہا کہ سنا ہے پرانے پاکستان میں پیٹرول سستا مل رہا ہے۔اس نے جواب دیا ڈیزل سستا ہے پاکستان میں بولو تو وہ ڈال دوں گاڑی میں۔ساڑھے تیرہ سو روپے میں سیونٹی کی ٹینکی فل کروا کو میری کانپیں ٹانگ گئیں۔

گھرمیں داخل ہوا تو بجلی ایک بار پھر گئی ہوئی تھی آخر پرانے پاکستان میں بجلی والوں سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ روزے کے وقت بجلی دے دیں۔نماز تراویح کے بعد کچھ دیر بچوں کے ساتھ کھیلا۔بچوں نے ضد کی کہ دکان سے کچھ کھانے کو لا دیں۔جب تک میں دکان پر پہنچا وہ شٹر گرا چکا تھا۔میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس سے بولا کی شٹر اٹھا کر بچوں کے لیے کچھ چیزیں دے دو۔اس نے میری طرف دیکھا اور چڑتے ہوئے جواب دیا"یہ میری دوکان ہے کوئی سپریم کورٹ نہیں"۔اپنا سا منہ لے کر واپس آیا، بچے سو چکے تھے اور گیارہ بجے میں بھی سونے کے لیے لیٹ گیا۔ابھی کمر نے بستر کو چھوا ہی تھا کہ پھر سے بجلی چلی گئی۔اس سے آگے کی کہانی اتنی شدید گرمی میں لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔

آگے کی کہانی آپ پوری کریں کیونکہ بھکاریوں کے پاکستان میں عام آدمی کی زندگی ایک جیسی ہی ہے ۔






 


Comments

  1. Ha g or bijli aik dfa phir ja chuki he🥱

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thanks for commenting.
      Bss ab yahi zindagi ha.

      Delete
  2. New pakistan mei bili jna start hoi ha ap log bs bt krna jnta Jo b leader ho es pr

    ReplyDelete

Post a Comment